نئی دہلی،29/ مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) خواتین کے لیے اسقاط حمل کرانے کی معیاد بڑھانے کا مطالبہ مسلسل جارہی ہے۔اس معاملے میں سپریم کورٹ نے خواتین کمیشن، قانون اور وزارت صحت سے جواب مانگا ہے۔دہلی ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کی گئی ہے، جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسقاط حمل کرانے کے لیے معیادبڑھانی چاہیے۔عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کسی حاملہ عورت یا اس کے پیٹ میں پل رہے بچے کی صحت کو کوئی خطرہ ہونے کی صورت میں اسقاط حمل کرانے کی مدت 20 ہفتے سے بڑھاکر 24 یا 26 ہفتے ہونی چاہئے۔ساتھ ہی درخواست میں اس بات کی بھی درخواست کی گئی ہے کہ غیر شادی شدہ خواتین اور بیواؤں کو بھی قانون کے تحت قانونی اسقاط حمل کی اجازت ضروری ہے۔یہ پٹیشن سماجی کارکن اور وکیل امت ساہنی کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ساتھ ہی اس میں وزارت صحت اور وزارت قانون کو ہدایت دینے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔6 اگست کو دہلی ہائی کورٹ اس پر اگلی سماعت ہوگی۔بتا دیں کہ ماں یا بچے کی صحت کو کسی طرح کا خطرہ ہونے کی صورت میں میڈیکل ٹرمنیشن آف حمل ایکٹ، 1971 کے مطابق، اسقاط حمل کرانے کی مدت 20 ہفتے ہے۔20 ہفتے کے اندراندر خواتین اسقاط حمل کروا سکتی ہے،جسے اب بڑھا کر24 یا 26 ہفتے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔